مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم

آج سے تقریباً ۴۹/سال قبل ''مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم'' کا قیام وقت کے بزرگ ہستیوں کے ہاتھوں عمل میں آیا، یہ ادارہ جہاں قائم ہے، چاروں طرف بددینی اور بد عملی کا دور دورہ تھا، علم کا چراغ ناکے درجہ میں تھا، پورا علاقہ جاہلانہ رسم و رواج کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، ہدایت کی روشنی پھیلی پڑ چکی تھی، جاہل پیر لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کر رکھے تھے، ایسی تاریک گھڑی میں اللہ تعالی نے ایک ایسے مردمجاہد، قوم کے محسن و مخلص شخص کو کھڑا کیا، جس کے دھڑ کتے اور تڑپتے دل نے یہ محسوس کیا کہ یہاں ایک ایسا دینی، روحانی، اور تربیتی ادارہ قائم کیا جائے، جہاں سے علم کی روشنی پھوٹے، رشدوہدایت کا چراغ روشن ہو، جس کے ذریعہ جاہلانہ رسم و رواج اور مشرکانہ اطوار و عادات کا خاتمہ ہو، چنانچہ بے سروسامانی کے عالم میں مولوی محمد شمس الدین صاحب ؒ نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کر کے ۱۹۷۱؁ء میں اس ادارہ کی بنیاد ڈالی، جو بظاہر جھونپڑی تھی؛ لیکن اخلاص و للہیت اور تقویٰ و طہارت پر قائم، اس جھونپڑی کا رشتہ دار ارقم، مسجد نبویﷺاور اصحاب صفہ سے جڑ گیا، ساتھ ہی ساتھ مخلص اور ہمدرد مشیروں کی ہمنوائی بھی حاصل ہوئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں علم کی ایسی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھیں


مدرسہ کی نگرانی میں چلنے والے مدارس و مکاتب

(1) مدرسہ دارالبنات طاہرہ بگہی بڑھیاٹولہ، تھانہ بیریا، مغربی چمپارن
(2)  مکتب دینیہ، شیخ ٹولی، مغربی چمپارن
(3)  مدرسہ اسلامیہ ہری نگر، مغربی چمپارن
(4)  دارالبنات فاطمۃ الزہراء، بیلداری، بتیا
(5)  مکتبہ اسلامیہ، سوتہ نوتن، مغربی چمپارن
(6)  مدرسہ اشاعت العلوم گدیانی ٹولہ، پوجہاں، مغربی چمپارن
(7)  ام حبیبہ للبنات بنہورا بازار نوتن ، مغربی چمپارن